انٹرویو : سحرش عارف ایڈووکیٹ
انٹرویو۔ محمد اختر علوی
رحیم یار خان  کسی ملک کی تعلیمی ترقی اس کے عروج کا نشان ہوا کرتی ہیں اگر عوام میں حصول علم کا شوق عود کر آئے تو بگڑی بن سکتی ہے خواہ ان کا ماضی کتنا ہی تاریک کیوں نہ ہو ان باتوں کا اظہار معروف قانون دان عارف ایڈووکیٹ کی صاحبزادی محترمہ سحرش عارف ایڈووکیٹ نے سی این این اردو کے نمائندہ رحیم یار خان م حمد اختر علوی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیں ۔ محترمہ سحرش عارف ایڈووکیٹ کا شمار نوجوان بااخلاق قابل وکلاء میں ہوتا ہے اور بہت ہی کم عرصہ میں اپنی قابلیت کے بل بوتے پر قانون دانوں میں منفرد مقام حاصل کررکھا ہے ۔ سحرش عارف ایڈووکیٹ جو سات سال سے شعبہ وکالت کے پیشہ سے منسلق ہیں سے ان کی نجی زندگی اور قانون بارے کچھ باتیں جو انہوں نے دوران انٹرویو کیں پیش ہیں ۔

سی این این : آپ نے کہاں تک تعلیم حاصل کی ۔

سحرش عارف ایڈووکیٹ : ابتدائی تعلیم پاکستان ائیر فورس اسکول لاہور سے پھر گورنمنٹ کالج برائے خواتین سے ( بی اے ) لائل پور لاء کالج سے (بی اے ایل ایل بی) این سی بی اے اینڈ ای لاہور سے (ایل ایل ایم ) ( اسلامی شریعہ کورس) (ایم اے انگلش ) اور سول جج کے پیپر بھی دیئے تھے (پی ایچ ڈی ) بھی کرنے کا ارادہ ہے ۔

سی این این : وکالت کے شعبہ کو کیوں پسند کیا ؟ اور اس شعبہ میں کونسی شخصیت سے متاثر ہیں ؟

سحرش عارف ایڈووکیٹ : میرے نزدیک انصاف کی فراہمی خلق خدا کیلئے بہت بڑی نعمت ہے اس سے بڑھ کر شاید ہی کوئی دوسرا کام ہو اور اس کا احساس مجھے میرے والدمحترم سے ملا جو خود بھی ایک شریف النفس غریب پرور انسان دوست آدمی ہیں اور سوال یہ کہ شعبہ وکالت کی کونسی شخصیت سے متاثر ہوں تو وہ حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی ذات ہے ان کے بعد میرے والدچوہدری عارف ایڈووکیٹ اسی طرح سینئر ایڈووکیٹ نعیم بخاری ،اعتزاز احسن وغیرہ ۔

سی این این : شعبہ وکالت میں پریکٹس کا آغاز کس شہر سے کیا اور اس میں استاد کون ہے ؟

سحرش عارف ایڈووکیٹ : میرے والد چوہدری عارف ایڈووکیٹ میرے استاد و رہنما ہیں جو تیس سال سے وکالت سے وابستہ ہیں انہوں نے ہی وکالت کے شعبہ کے داؤ پیش سکھانے میں بھر پور رہنمائی کی اور کرتے آرہے ہیں ان کے آفس فیصل آباد سے وکالت کی پریکٹس کا آغاز کیا اب سات سال کی پریکٹس کرنے کے بعد اپنا ذاتی آفس لاہور میں بھی قائم کیا ہے ۔

سی این این : اکژ یہ سننے میں آتا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورتوں کو تعلیمی میدان و دیگر شعبوں میں کارکردگی دکھانے اور کامیابی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے جو اپنے ہی گھر کے باپ ، بھائی اور دیگر رشتہ داروں سے ہوتا ہوا بدنظروں تک پہنچتا ہے۔ آپ کو کسی پریشانی کا سامنہ کرنا پڑا کبھی کسی موڑ پر ؟

سحرش عارف ایڈووکیٹ : یہ ان ناکام لوگوں کی باتیں ہیں جن کے پاس اپنی ناکامی چھپانے کا کوئی اور بہانہ نہیں پیش کرنے کو۔ عورت ہو یا مرد اللہ کریم نے ہر ایک کا اپنا مقام بنایا ہے کامیابی حاصل کرنے کیلئے شرط یہ ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کیلئے بے پناہ محنت اور لگن کی ضرورت ہے ۔باپ ،بھائی کی جہاں تک بات ہے تو وہ اپنی حد تک جائز دھڑکا لگائے رکھتے ہیں کیونکہ وہی تو ہیں جو عورتوں کی عزت و عفت کے اصلی محافظ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی بجائے اپنی حد میں رہ کر ان کی رہنمائی میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑہے تو کامیابی سہل ہوکر اس کے قدموں میں خود چلی آئے گی جس کی مثال میں خود ہوں ۔

سی این این : مہنگائی کے اس دور میں غریب آدمی وکلاء اور دیگر عدالتی اخراجات سے بچ کر انصاف کیسے حاصل کر سکتا ہے ؟

سحرش عارف ایڈووکیٹ : ایک غریب شخص جو عدالتی و دیگر وکلاء کی فیس وغیرہ کی استطاعت نہیں رکھتا وہ ایک عام سی درخواست عدالت جناب میں پیش ہوسکتا ہے اس پر بعدالت جناب ازخود نو ٹس لے کر انصاف فراہم کرسکتی ہے اسی طرح فوجداری مقدامات میں غریب الزام علیہان کو سرکاری خرچ پر بھی وکیل مہیا کیا جاتا ہے علاوہ ازیں پاکستان بار کونسل ،پنجاب بار کونسل اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس میں پیش رہتی ہیں اور اس سلسلے میں میڈیا کا رول انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے ۔

سی این این : معزز عدالتیں عام واقعات پر ازخود نوٹس لے کر کاروائی کیوں شروع کر دیتی ہیں ؟

سحرش عارف ایڈووکیٹ : جب انتظامیہ کی طرف سے کسی متاثرہ شخص کو انصاف کی فراہمی نہ ہو رہی ہو تو اس پر معزز عدالتیں ازخود نوٹس لیتی ہیں ۔

سی این این : پولیس کسی شخص کو کس قانونی اعتبار سے گرفتار کر سکتی ہے اور کتنے دن تھانہ میں اپنی مرضی سے بند کرکے بٹھا سکتی ہے ؟

سحرش عارف ایڈووکیٹ : قانون کے مطابق (ایف آئی آر )کے اندراج کے بعد انچارج تھانہ گرفتاری کے احکامات صادر کرتا ہے جس کا ریکارڈ متعلقہ تھانہ کے روزنامچہ میں درج کیا جاتا ہے اور گرفتار شخص کو تفتیشی افسر چوبیس گھنٹے کے اندر اندر علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کا قانوناََ پابند ہے ۔جہاں مجسٹریٹ صاحبان صفہ مثل کے مطابق ریمانڈ دینے اور نہ دینے کا اختیار رکھتے ہیں ملزم کے جسمانی اور جوڈیشل ریمانڈ کے وقت باریک بینی سے مشاہدہ کرکے اسے آزاد بھی کر سکتے ہیں ۔