اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی آئی اے خسارہ اوربھرتیوں کی اجازت سے متعلق کیس میں آڈیٹرجنرل رپورٹ پر پی آئی اے سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے سابق سربراہ پی آئی اے کانام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق اٹارنی جنرل سے جواب طلب کر لیا اور پی آئی اے سے خالی اسامیوں کی فہرست بھی طلب کرلی،جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پی آئی اے جیسے شاندار ادارے کے ساتھ کیا کردیا گیا ،پی آئی اے ٹھیک نہیں ہو گا تو کسی پر تو غصہ اترے گا۔تفصیلات کے مطابق جسٹس شیخ عظمت کی سربراہی میں بنچ نے پی آئی اے خسارہ سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔عدالت نے آڈیٹر جنرل رپورٹ پر پی آئی اے سے جواب طلب کر لیا،جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ادارے کی بہتری کیلئے کیا اقدامات کرنے ہیں ہم نے نہیں بتانا،ہم یہ بتانے کے اہل نہیں کہ بہتری کیلئے کیاکیاجاسکتا ہے، پی آئی اے کے مسائل وفاقی حکومت اورانتظامیہ خودحل کرسکتی ہے، آڈٹ رپورٹ پی آئی اے کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم ہے ،آڈٹ رپورٹ سے پی آئی اے کے مرض اوربیماری کاپتہ چلے گا۔پی آئی اے میں بھرتیوں کے حوالے سے جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ پی آئی اے میں نئی بھرتیوں کی کیاضرورت ہے؟،پی آئی اے میں تو پہلے ہی زیادہ ملازم ہیں،فہرست فراہم کریں کن کن عہدوں پربھرتیاں کرنی ہیں،مجھے معلوم ہے نیاسربراہ پی آئی اے پرسفرکیوں نہیں کرتا،پی آئی اے فلائٹس دستیاب نہیں ہوتی سفر کیسے کر سکتے ہیں ،جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ پی آئی اے جیسے شاندار ادارے کے ساتھ کیا کردیا گیا ،پی آئی اے ٹھیک نہیں ہو گا تو کسی پر تو غصہ اترے گا،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 16 نومبرتک ملتوی کردی ،عدالت نے سیکرٹری سول ایوی ایشن،ڈی جی ایف آئی اے اورنیب حکام آئندہ سماعت پرطلب کر لیا۔