انسانیت کا وجود خطرے میں

تحریر ایم ایس اطہر قریشی
دنیا کی طاقتور ترین قوتوں نے انسانیت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لینے کا پروگرام بنا لیا ہے انسان اپنی شناخت آپ ہوگا یہ زنجیریں وہ روایتی زنزیر نہیں ہوگی جنکا کا ماضی میں استعمال ہوتا رہا ہے بلکہ یہ نئے دور کی ایک مائیکروچپ ہوگی جو انسان کے جسم میں منتقل کر دی جائے گی اس کے بعد انسان ایک ربورٹ کی طرح سے کام کرے گا یہ مائیکروچپ اسکے دماغ کو بھی کافی حد تک کنٹرول کرنے میں کام آئے گی دنیا سے پیپر کرنسی کا دور ختم ہو جائے گا اس کی جگہ ڈیجیٹل کرنسی لے لے گی آئی ڈی کارڈ اور پاسپورٹ بھی ختم کردیا جائے گا انسان اپنی پہچان آپ ہوگا انسانی جسم میں منتقل کی جانے والی مائیکروچپ میں انسان کا مکمل ڈیٹا ہوگا انسان اپنا اے ٹی ایم خود ہوگا تمام تر پیغام رسانی کے کام اسی مائیکروچپ کے ذریعے کیے جائیں گے انسان ایک سیمئ ر بوٹ کے طریقہ سے کام کرے گا اس کا ذہن ایک ایسے کنٹرول میں ہوگا جس کا اسے خود بھی علم نہیں ہوگا دنیا میں کہیں بھی سفر کرنے کے لئے انسان کے جسم میں اس مائیکروچپ کا ہونا لازمی قرار دے دیا جائے گا کیونکہ یہی انسان کی پہچان ہوگی یہی انسان کا پاسپورٹ ہوگا اور یہی اس کا بینک اکاؤنٹ ہوگا اور بینک بیلنس ہوگا فائیو جی (5G) کے لاؤنج ہوتے ہی اس پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا مائیکروچپ کے استعمال کا انسان پر عملی تجربہ کیا جاچکا ہے کرونا وائرس کا بہانہ بنا کر دنیا سے ملیئنز آف ملیئنز کی تعداد میں انسانوں کو کم کیا جائے گا اور کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جو ویکسین استعمال کی جائے گی اس کے ذریعے یہ چپ انسان میں منتقل کی جائے گی اس موقع پر دنیا میں ایک واحد ملک مملکت خداداد ہے جو دنیائے انسانیت کو اس مشکل گھڑی میں اس سے نجات دلاسکتی اور یہ مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو باتیں میں آپ سے کرنے جارہا ہوں شاید اس کا موقع ہمیں دوبارہ نہ مل سکے اس وقت دنیا کی تمام عالمی قوتیں اور ان سے وابستہ تمام تر ادارے کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات میں مصروف ہیں لیکن اس سے بچاؤ کا انتظام نہیں کرسکے یہاں یہ بات آپ کو بتانا انتہائی اہم اور ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کو آگاہی دی جائےکہ یہ ایک نیا دور 2020 سے شروع ہوا ہے اور اپنے ساتھ کرونا وائرس کو لے کر آیا ہے یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ نہ جانے کب تک چلتا رہے گا یہ بات آپ اچھی طرح سے نوٹ کرلے اب ہم 2020 سے پہلے کئ نارمل لائیو( یعنی 2020 سے پہلے جیسا یہ معاشرہ چل رہا تھا پہلے والی زندگی ) میں لوٹ کر نہیں جا سکیں گے جیسا کہ اوپر بتا چکا ہوں کہ پیپر کرنسی کا دور ختم ہو جائے گا انسان خود چلتا پھرتا اپنا اے ٹی ایم اور بینک ہوگا خودی اپنا پاسپورٹ ہوگا خودی اپنی شناخت ہوگا انساں کے جسم میں منتقل کی جانے والی مائیکروچپ ہوائی جہاز کے اس بلیک باکس کی طرح ہوگی پورا جہاز تباہ ہوجانے کے باوجود بھی وہ بلیک بکس محفوظ رہتا ہے جی ناظرین تو کچھ آپ کی سمجھ میں آئی میری بات اب آپ کو اندازہ ہو جانا چاہئیے کہ کرونا وائرس کن قوتوں کی پیداوار ہے اب اس وائرس کے ذریعے وہ دنیا کو مجبور کر دیں گے کہ دنیا بھر کے انسان اس بظاہر ویکسین لیکن چپ کو اپنے جسم میں منتقل کرانے پر مجبور ہو جائے یہی ان سپر قوتوں کا پر اور فائیو جی نیٹ ورک بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعے انسان کو ماینٹر کیا جائے گا چپ زدہ انسان کو اس کی ہر موومنٹ پر مکمل نظر رکھی جائے گی اس طرح سے طاقت کا توازن اس پڑھنے میں ہوگا کہ جس نے یہ پروگرام بنایا ہےاور وہ دنیا بھر کے تمام ممالک کو اس پروگرام میں شرکت پر مجبور کرے گا جو ملک اس پروگرام میں شریک ہونے سے انکار کریں گے اس سے ہر طرح کا ٹریڈ بند کر دیا جائے گا اور انہیں کرونا وائرس سے لڑتے ہوئے مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا بلکہ اسی طرح کے اور بھی وائرس عنقریب لاؤنج کیے جانے ہیں یہاں پر میں ایک اہم بات اور آپ کو بتانا چاہتا ہوں آج سے کم و بیش ایک ہزار سال پہلے اسلامی مورخہ لائبراھیم بن سا لو قیہ اپنی کتاب اخبار الز مان صفحہ نمبر ٣٢۵ پر تحریر کرتا ہے جب دو عدد (٢٠_ ٢٠) برابر ہو جائیں گے زمانے میں ایک مرض پھیل جائے گا اور حج کرنا روک دیا جائے گا دنیا میں شور و غل برپا ہوگا ہلاکتے ہوگی لیکن لوگ لاچار ہونگے اور روم کا ایک بادشاہ اس پھیلے ہوئے مرض سے مر جائے گا
بھائی اپنے بھائی سے خوفزدہ ہوگا یہودیوں کی طرح لوگ ڈینگے ماریں گے بازاروں میں مندی ہوگی گناہوں کا دور ہوگا ایک تہائی لوگ مر جائیں گے بچے ذہنی اعتبار سے جوان ہو جائیں گے اسی طرح ایک اور مورخ نوسترادمس (Nostradamus) پندرہ سو اکیاون ١۵۵١ میں اپنی کتاب میں کرونا وائرس کا ذکر کرتا ہے یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کرونا وائرس چائنا ایسٹ سے شروع ہوگا دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل جائے گا اٹلی میں سب سے زیادہ اموات کا ذکر ہے یہ کہتا ہے کہ دنیا کی انتہا کا آخر ہے دنیا کی اکنامی بالکل تباہ ہو جائے گی اور یہ بھی کہتا کہ انسان چاروں طرف زمین پر مردہ حالت میں بکھرے پڑے ہوں گے نناظرین ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کہ حالات اور واقعات کی کڑیاں ایک دوسرے سے ملتی جا رہی ہیں اور دنیا میں جو کچھ ہونے جارہا ہے وہ بہت ہی خطرناک ہے اسکا تدارک کس طرح سے عمل میں لایا جاسکتا ہے اس کا ایک ہی طریقہ ہے کے فائیو جی لانچنگ کو فی الفور روکا جائے اور اس کے لیے تمام اسلامی ملک اسلامی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہوگا اور دنیاءے انسانیت کی بقا کے لئے ایسے فیصلے کرنے ہونگے جو ناگزیر ہونگے اور اس وقت دنیا اسلام کے اندر صرف ایک واحد ملک پاکستان ہے جو یہ کام سرانجام دے سکتا ہے جس کے لیے اس نے وہی فارمولا اپنانا ہوگا جو ماضی میں ایک دفعہ پلان کرکے وہ چھوڑ چکا ہے ناظرین امید کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں آپ کی معلومات میں بہترین اضافہ ہے اور ہمارے ارباب اقتدار اور مذہبی اسکالر دانشور اور سربراہان مملکت اب راست اقدام اٹھانے میں دیر نہیں کریں گے کیونکہ یہ دنیاءے انسانیت کی بقا کا مسئلہ ہے ہمیں رنگ و نسل فرقہ واریت اور دوسرے اپنے اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسلام اور انسانیت کی بقا کیلئے اکٹھے ہو کر منظم طریقے سے تمام مسلم امہ کے لیے سوچنا ہوگا اور وقت ضائع کئے بغیر ایک بڑا قدم اٹھانا ہوگا کہی ایسا نہ ہو دیر ہو جائے اور انسانیت زنجیروں میں جکڑ دی جائے