اسلام آباد : دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی مجموعی تعداد 25 لاکھ 31 ہزار سے تجاوز کرگئی اور 1 لاکھ 75 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں جب کہ 6 لاکھ 65 ہزار458 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔امریکا کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے ایک چوتھائی اموات امریکا میں ہوئیں۔ دنیا میں ابتدائی طور پر 5 لاکھ کیس رپورٹ ہونے میں 75 دن لگے تھے تاہم گزشتہ 6 دن کے عرصے میں اتنی تعداد کی تصدیق ہوئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق صرف تین ماہ قبل 10 جنوری تک 41 کیسز کی تصدیق  ہوئی تھی جب کہ اپریل میں یہ شرح 70 ہزار یومیہ تک جاپہنچی۔ عالمی ادارۂ صحت نے ان اعداد و شمار کا موازنہ موسمی فلو سے کرتے ہوئے کہا کہ ہرسال 30 سے 50 لاکھ افراد سیزنل انفلوئنزا سے شدید بیمار پڑ جاتے ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین کی موجودہ تعداد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ افراد متاثر ہوسکتے ہیں تاہم اس کا پھیلاؤ 1918 میں پھیلنے والے اسپینش فلو سے کم ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق 5 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس وبا کے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے باجود اس وبا کا پھیلاؤ سست پڑنے کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔ اپریل کے آغاز میں متاثرین کی تعداد میں یومیہ 8 سے 9 فی صد اضافہ ہورہا تھا جو کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 3 سے 4 فی صد یومیہ پر آگیا ہے۔خطے میں بھارت حالیہ وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 18 ہزار 9 سو سے زائد کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے اور مرنے والی کی تعداد 603 ہے۔  افغانستان میں متاثرین کی تعداد 1ہزار 92 ہے اور 35 اموات ہوچکی ہیں۔ سری لنکا میں 310 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بنگلا دیش میں 2 ہزار 9 سو 48 کیس سامنے آچکے ہیں اور 101 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ مالدیپ میں 34، نیپال میں 32 اور بھوٹان میں 6 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ ان ممالک میں ابھی تک وبا سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس وبا کی روک تھام کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں بتدریج نرمی لائے جائے اگر اس میں جلدی دکھائی گئی تو مریضوں کی تعداد میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔دوسری جانب یورپ میں ڈنمارک، اسپین، جرمنی اور آسٹریا میں دندان سازوں، حجاموں اور تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی کا علان کردیا ہے۔ امریکا کی جن ریاستوں میں حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی کے گورنر ہیں ان میں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی لائی جارہی ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردوان کا کہنا ہے کہ جون تک ملک میں صورت حال معمول پر آ جائے گی جب کہ اٹلی نے مئی کے آغاز تک لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔