رمضان کیسےگزاریں
تحریر
ایم ایس اطہر قریشی
ترتیب اور رہنمائی
علامہ محمد خلیق مدنی

رمضانکیسےگزاریں

بسْــــــــــــمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(پارہ۔٢۔۔البقرہ۔۔۱۸۳)

ترجمہ کنز الایمان: (183)اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے۔

⬅{كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ: تم پر روزے فرض کیے گئے۔} اس آیت میں روزوں کی فرضیت کا بیان ہے۔ ’’شریعت میں روزہ یہ ہے کہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک روزے کی نیت سے کھانے پینے اور ہم بستری سے بچا جائے۔‘‘(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۳، ۱ / ۱۱۹)

روزہ بہت قدیم عبادت ہے:

اس آیت میں فرمایا گیا ’’جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھے۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ بہت قدیم عبادت ہے۔ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کرتمام شریعتوں میں روزے فرض ہوتے چلے آئے ہیں اگرچہ گزشتہ امتوں کے روزوں کے دن اور احکام ہم سے مختلف ہوتے تھے۔ یاد رہے کہ رمضان کے روزے10 شعبان 2ہجری میں فرض ہوئے تھے۔ (در مختار، کتاب الصوم، ۳ / ۳۸۳)

روزے کا مقصد:

آیت کے آخر میں بتایا گیا کہ روزے کا مقصد تقویٰ و پرہیز گاری کا حصول ہے۔ روزے میں چونکہ نفس پر سختی کی جاتی ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں سے بھی روک دیا جاتا ہے تو اس سے اپنی خواہشات پر قابو پانے کی مشق ہوتی ہے جس سے ضبط ِنفس اور حرام سے بچنے پر قوت حاصل ہوتی ہے اور یہی ضبط ِنفس اور خواہشات پر قابو وہ بنیادی چیز ہے جس کے ذریعے آدمی گناہوں سے رکتا ہے۔
اللہ تعالی ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ اس آنے والے رمضان المبارک کو ہم اپنے پچھلے گزرے تمام رمضان مبارک سے بہتر طریقے سے گزارنے کی جدوجہد کوشش اورسچے دل سے نیعت کرتے ہیں

آئیے۔اِس رمضانُ المبارک کو ہم ایک جدول کے مطابق گُزارتے ہیں اِن شاء اللہ عزّوجل اِس کی برکت سے ہم اپنے دُنیاوی کام کاج کے علاوہ عبادات،تلاوتِ قرآن اوربڑی تعداد میں دُرودِ پاک پڑھنے میں بھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔
اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانیت کی خدمت کے لیے بہترین کام کرسکیں ۔

روزہ رکھنے کاشرعی حکم: ماہِ رَمَضان کے روزے ہر مُسلمان( مَرد وعورت) عاقِل وبالِغ پر فَرض ہیں۔بِلاعُذرِ شرعی روزہ چھوڑنا سخت حرام و گُناہ ہے۔

روزہ رکھنے کی فضیلت: فرمانِ مُصطفٰے ﷺ ”جس نے ماہِ رَمَضان کا ایک روزہ بھی خاموشی اور سُکون سے رکھا اسکے لئے جنّت میں ایک گھر سُرخ یا قوت یا سبز زَبَرجَد کا بنایا جائے گا۔ (مَجْمَعُ الزَّوائد ج3ص346حدیث4792)

سحری کھانے سے پہلے: نمازِتہجدکیکمازکم دورکعت نفل پڑھیں۔
اور اگر استغفار کی ایک تسبیح پڑھی جائے تو یہ سونے پہ سہاگا ہوگا ۔
سحری کھانے کی فضیلت: فرمانِ مصطفٰی ﷺ”سَحَری پوری کی پوری بَرَکت ہے پس تم نہ چھوڑو چاہے تم پانی کا ایک گُھونٹ ہی پی لو۔ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اسکے فِرِشتےسَحَری کرنے والوں پر رَحمت بھیجتے ہیں ۔
(مُسند امام احمد ج4ص88حدیث11396)

سحری کاکھانا کھانے میں احتیاطیں: مُرَغّن(یعنی تیل ،گھی والی ) غِذاؤں کے اِستِعمال سے پرہیزفرمائیں ورنہ بیمارہونے کااندیشہ ہے۔سادہ کھانا کھائیں۔ ہمیشہ بھوک سے کم کھانے کی عادت بنائیں۔اگرزیادہ پیاس لگتی ہوتودَہی کھالیں۔(کھجوراورپانی سے روزہ رکھنابھی سُنت ہے۔الحدیث)

ایک اہم بات: بعض لوگ فجرکی اذان ختم ہونے تک کھانا کھاتے رہتے ہیں اِس طرح اُن کاروزہ نہیں ہوتا۔یادرکھیں اذان سحری کاوقت ختم ہونے کے بعد نمازِ فجر کیلئے دی جاتی ہے لہٰذا اذان کااِنتظار کئے بغیرسحری کاوقت ختم ہونےسےچندمنٹپہلےاحتیاطانکھاناپینابندکردیں ۔

فجرکی نمازکے بعد: قرآنِ پاک سےچارصفحات پڑھیں۔ دو(2) رکعتنفل اشراق اوردورکعتنفلچاشتادافرمالیںکہحجوعمرےکاثوابملےگا۔

اِشراق اور چاشت کا وقت: سورَج طُلُوع ہونے کے کم از کم بیس یا پچیس مِنَٹ بعد سے لے کر ضحو ہ ٔ کُبریٰ تک نَمازِ اِشراق اورچاشت کا وَقت رہتا ہے

ظہرکی نمازکے بعد: قرآنِ پاک سے چار صفحات پڑھنے کے بعدکسی اسلامی کتابکا کم ازکم 12منٹ مطالعہ فرمائیں۔

عصرکےبعد: قرآنِ پاک سے چار صفحات پڑھنے کےبعدذکرواذکاراوردرودپاکمیںاپنےوقتکوصرففرمائیں۔
اور اس بات کا بھی خاص اہتمام کریں کہ آپ کے قرب و جوار میں محلے اور رشتے داروں میں کن کن گھروں میں روزہ دار ہیں اور اور وہاں سحر و افطار کا کیا انتظام ہے جن کی ضرورت آپ پوری کر سکتے ہیں ضرور ان کے ساتھ تعاون کریں ۔

غروبِ آفتاب سے کچھوقت پہلے: اپنے گھر والوں کے ساتھ دسترخوان پربیٹھ کردعامانگیں۔ کیونکہ یہ دُعا کی قبولیت کے لمحات ہیں اِسے غفلت میں نہ گُزاریں۔

نوٹ:سحریوافطاریکےمبارکلمحاتایسےTvچینلکےسامنےمتگزاریںجوآپکےسبسےقیمتیوبابرکتوقتکوضائعکردیں۔
ایسےلوگوںکابائیکاٹکردیںجومخلوطپروگراموںمیںاسلامیتعلیماتکیدھجیاںاڑائیں۔اللہایسوںکوہدایتعطافرمائے۔آمین

روزہ افطارکرنے کیلئے: کھجور،پانی،یاپھل کھائیں،پکوڑے سموسے اور مرغّن غذائیں کھانے سے بچیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہیں۔اورنمازمغربادافرمائیں۔

مغرب کی نمازکے بعد: صلوۃُ الاوَّابین کے کم ازکم 2رکعتنفل پڑھیں اگرچہ عدت پورے کریں تو بہت ہی اچھی بات ہے پھر قرآنِ پاک سےکمازکمچارصفحات پڑھ کرکم ازکم 50بار درودِپاک پڑھ لیں۔

نوٹ: صلٰوۃُ الاوّابین کی کم ازکم دو اورزیادہ چھ رکعات ہیں۔

عشاء کی نمازکے بعد باجماعت نمازِ تراویح پڑھیں اِس کے بعد قرآنِ پاک سے چارصفحات پڑھلیں۔

نمازِتراویح :سنّتِ مُؤَکَّدَہ ہے اِس کی بیس رکعات ہیں۔ فرمانِ مصطفٰےﷺ”جو ایمان و طلبِ ثواب کے سبب سے رَمَضان میں قِیام کرے اُس کے اگلے پچھلے گناہ (یعنی صغیرہ گناہ)بخش دیئے جائیں گے۔(صحیح بخاری ج۱ص658حدیث2010)

رات کوسونے سے پہلے: صلوۃ ُالتوبہ کے 2 نفل ،سورۂ واقعہ اورسورۂ مُلک پڑھنے کی عادت بنائیں ان شاء اللہ عزّوجل اِس کی برکتیں پائیں گے۔

نمازِ توبہ کی فضیلت:جب کوئی بندہ گناہ کرے پھر وُضو کر کے نَماز پڑھے پھر اِستغفار کرے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا۔(ترمذی ج1ص415)
ایک دن میں کم سے کم سو بار استغفار پڑھنا اپنا معمول بنا لیں

سورۂ واقعہ کی فضیلت:فرمانِ مصطفٰےﷺ”سورۂ واقعہ تونگری(خوشحالی)کی سورت ہے لہٰذااِسے پڑھواوراپنی اولادکوسکھاؤ۔(روح المعانی جلد7ص183)

سورۂ مُلک کی فضیلت: قرآنِ کریم میں ایک سورت ہے جواپنے پڑھنے والے کے بارے میں جھگڑاکرے گی یہاں تک کہ اُسے جنّت میں داخل کرادے گی اور وہ یہی “سورۂ مُلک” ہے. (تفسیردُرِّ منثورجلد8 ص233)

اگرآپ ہر نمازکے بعدقرآنِ پاک کےچارصفحات پڑھنے کامعمول بنالیں تو اِن شاء اللہ عزوجل آپ مکمل رمضان میں ایک قرآن ِمجید ختم کر نے کی سعادت حاصل فرمالیں گے۔

مشورہ: رمضانُ المبارک کی راتوں کوجلدی سونے کی عادت بنائیں تاکہ سحری کے وقت اُٹھنے میں پریشانی نہ ہو۔

عشرہ رحمت کی دُعا: رَبِّ اغفِروَارحَم وَاَنتَ خَیرُالرَّاحِمِینَ: اے میرے رب مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرمااورتُوسب سے بہتررحم فرمانے والاہے

عشرہ مغفرت کی دُعا:اَستَغفِرُاللہَ رَبِّی مِن کُلِّ ذَنبِِ وَّاَتُوبُ اِلَیہِ: میں اللہ سے تمام گناہوں کی بخشش مانگتاہوں جومیرارب ہے اوراٗسی کی طرف رجوع کرتاہوں

عشرہ جہنم سے آزادی کی دُعا: اَللّٰھُمَّ اَجِرنِی مِنَ النَّارِ: اے اللہ مجھے جہنم کی آگ سے بچا

روزانہ رات کوسونے سے پہلے یہ ضرورسوچیئے گا کہ میں نے آج کادن کیسے گزارا۔۔؟
الداعی الخیر