ہم نافرمان سمجھتے نہیں
خیال افق
میاں ایم جے وٹو
جب ہمارے نفس کے گلے میں بندھی رسی شیطان کے ہاتھ میں ہو گی اور وہ ہمیں کہیں بھی لے جائے اور ہم اسے ترقی اور کامیابی کا رستہ سمجھیں اور اسی کی تابعداری میں دن رات محنت میں لگ جائیں اورپھر دنیاوی محنت پر ہماری عقل بھی مفقود ہو جائے اور پھر ہم گناہوں کے سمندر میں تیرنے لگیں ۔ اﷲ اور اس کے رسولۖ کے بتائے ہوئے احکامات سے روح گردانی کرنے پر فخر کریں اور اس پر ہماری ناقص عقل بھی طرح طرح کے دلائل سے گناہوں کی وکالت پر اتر آئے اور گناہ کو بھی نیکی کا کام سمجھ کرہم بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگیں تو پھر جان لو کہ تم تباہی کے دہانے پر ہو ۔ جن قوموں پر اﷲ تعالی نے عذاب کا فیصلہ کیا ان پر بھیج دیا گیا ۔ مگر یاد رکھو ایک قوم حضرت یونس کی تھی جنہوں نے عذاب کے آثار دیکھ کر فوراً توبہ استغفار کی تو اﷲ تعالی نے ان کی توبہ قبول کر لی اور عذاب ٹال دیا ۔ آج دنیا خوف میں مبتلا ہے لیکن اپنے گناہوں سے توبہ استغفار نہیں کر رہی ۔ گناہوں میں ڈوبی ہے ظلم و زیادتی ناانصافی قتل و غارت کا بازار گرم ہے ۔ ظلم اور زیادتی کو فخر اور فیشن سمجھا جاتا ہے ۔ ایسے ایسے ظلم کیے جا رہے ہیں کہ جب حضور پاکۖ کے تشریف لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت کے تھے۔اس زمانے میں بھی ایسے ظلم و ستم نہیں ہوا کرتے تھے جو کہ اب اس ترقی پسند وقت میں ڈھائے جا رہے ہیں اور پھر ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسے ظلم پر ارباب اختیار خاموش تماشائی ہی نہیں بلکہ مجرموں کا ساتھ بھی دیا جاتا ہے ۔ اکثر سے زیادہ علاقہ کے تھانوں کی سرپرستی میں علاقہ میں ظلم ناانصافیاں عروج پر ہیں ۔ یہاں انصاف ہوتا نہیں انصاف بکتا ہے ۔ یہاں ظالم اور مجرم کو عزت دیکر آزاد کیا جاتا ہے مظلوم اور کمزوربے بس کو قید کر دیا جاتا ہے ۔ ظلم و ناانصافی کی تابناک اور تاریک رات جاری ہے ۔ یاد رکھنا ظلم اور ناانصافی کا شکار مظلوم جب ہاتھ اٹھا کر اﷲ کی عدالت میں اپنا کیس سماعت کیلئے پیش کرتاہے تو پھراﷲ کا عرش بھی جوش میں آجاتا ہے اور پھر زمین والوں کو کسی نہ کسی آزمائش اور چھوٹے سے چھوٹے وائرس یا جراثیم کے ذریعے ہر لمحہ کیلئے خوف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے اور انکی نیندیں اڑا دی جاتی ہیں ۔ آج ہر فرد خوف میں مبتلا ہے ۔ یہاں تک کہ ائیرپورٹ ویران ہو گئے ۔ ہوٹل ویران ‘شادی ہالز پر سناٹا چھایا ہوا ہے ۔ بازار بند ‘دوکانیں بند ‘رونقیں برباد ‘تعلیمی ادارے بند ‘دنیا کی شادابی ختم ہر طرف خوف منڈلا رہا ہے ۔ پوری دنیا کو ایک چھوٹے سے وائرس نے خوف میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے ۔ آج تک دنیا کی خود ساختہ سپر طاقت نے سوچا تک بھی نہ تھا۔ خدا جب کسی کو حکم کرتا ہے تو وہ ہو جاتا ہے ۔ سپر طاقت بس ایک اﷲ تعالی کی پاک ذات ہی ہے ۔ سب طاقتیں بے بس ہو چکی ہیں ۔ اب پوری دنیا نے منہ چھپا لیا ہے ۔ جو بدبخت کہتے تھے کہ نقاب سے عورت کو قید کرنا ہے ۔ اب سب کو خدا نے نقاب پہنا دیئے ہیں ۔ ہر بندہ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہو چکا ہے ۔ دنیا کی ترقی رک چکی ہے ۔ دنیا کی سائنس وڑ چکی ہے ۔ ہر طرف موت کے سائے منڈلا رہے ہیں ۔ اپنے آپ کو سپر طاقت کہنے والوں کو بھی اپنی جان کے لالے پڑ ے ہوئے ہیں ۔ چہرے لٹک چکے ہیں ۔ اب خدا کہہ رہا ہے بولو کون ہے سپرطاقت ‘تم نافرمانی میں تمام حدیں پھلانگ چکے ہو ۔ ہر طرف نافرمانی کی جا رہی ہے ۔ کالج ‘یونیورسٹیوں میں فحاشی عروج پر ہے ۔ گھر گھر’ جگہ جگہ قحبہ خانے کھل چکے ہیں ۔ فحاشی اور نافرمانی جب اس قدر بڑھ جاتی ہے تو زمین بھی بیزار ہو جاتی ہے اور خدا سے عرض کرتی ہے کہ اے خدا! مجھے حکم ہو تو میں ان نافرمان لوگوں کو اپنے اندر کچل کر رکھ دوں۔ لیکن خدا تو بڑا مہربان ہے وہ بار بار موقع دیتا ہے لیکن ہم نافرمان سمجھتے نہیں کیونکہ اﷲ جب ناراض ہوتا ہے تو بندے سے سجدے کی توفیق بھی چھین لیتا ہے ۔تو کسی آفت کے مسلط ہونے پر خدا کے گھر کے دروازے اپنے لئے بند نہیں کیے جاتے ۔یہ سوچی سمجھی سازش ہے بیت اﷲ اور مسجد نبوی کافی عرصہ سے انکے پیٹ میں مروڑ تھا جو اسے روک کر وہ کامیابی حاصل کرنا چاہ رہے ہیں لیکن خدا کے فضل سے وہ ناکام ہونگے۔ مالک جب ناراض ہو تو اس کے گھر جا کر اسے راضی کرنیکی کوشش کی جاتی ہے کہ مالک ہم پر فوری راضی ہو جائے ‘چہ جائے کہ اس کے گھر جانا ہی چھوڑ دیں ۔ہم نے آج تک یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اپنے بڑوں کی قربانیوں کے بعد یہ ملک صرف کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیا تھا کیا آج ہم نے اس وعدہ کو پورا کیا ہے؟ ہم تو بڑے بے شرم ہیں اپنی مادرِ وطن سے بھی نادم نہیں بڑے فخر اور بڑے اکڑ کر اس پر چلتے ہیں ۔ اے کاش کوئی مخلص رہبر ہمیں ملا ہوتا کہ ہمیں بھٹکے ہوئوں کو سوئے حرم لیئے چلتا اور غیروں کا آلہ کار نہ بنتا قوم سے جو مخلص اور درد مند ہوتا انصاف مہیا کرتا امن اور سب کی جان کا رکھوالا ہوتا۔ مگر تم نے کشمیر کی مائوں ‘بہن ‘بیٹیوں ‘کی آہیں سنی ہی نہیں جو آج عرش سے ٹکرا گئیں ہیں اب جنہوں نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔کم عقل کیا جانے خدا نے آج ساری دنیا کورونا جیسی نامراد آزمائش میں مبتلا ہے یہ نہیں ہم سوچ رہے کہ فسلطین ‘برما ‘کشمیر اور انڈیا کے مسلمانوں پہ جو ظلم اور بربریت کی انتہاء کی گئی کسی ملک نے بھی اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے حتی کہ اقوام متحدہ نے بھی کسی قسم کا ایکشن نہ لیا آج تک مسلمانوں پر غیر مسلموں نے ظلم کے پہاڑ گرائے کسی کی آنکھ بھی نم ہوئی اورکیسے گاجر مولی کی طرح مسلمانوں کے لخت جگر انکے ماں باپ کے سامنے کاٹے گئے اور تو اور مسلمان بہن بیٹیوں کی عزتیں انکے باپ بھائیوں کے سامنے تار تار کی گئیں کسی غیرت مند ملک نے ایکشن نہ لیا؟ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جاتی رہی ۔ زندہ انسانوں کو جلایا گیا اور ہم تماشا دیکھتے رہے مسلمانوں کے گھر جلا دیئے کاروبار تباہ کر دیئے اور ہم خاموش رہے حتی کہ مسلمانوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت بنا کر انہیں چبایا گیا ‘ہمارے کشمیری بھائی 70 سال سے آج تک ظلم و زیادتی اور قید کی سلاخوں کے پیچھے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ آج تک کوئی ایسا قانون تیار نہ کیا گیا ہے کہ جو ایسے ظالم جابر حکمران کیخلاف ایکشن لے سکے ۔ جان لو آج دنیا اسی عذاب میں مبتلا ہے یہ اسی ظلم کا انجام ہے ۔ آج مودی بھی اسلام کے سچے مذہب ہونے کا اقرار کر رہا ہے اور اﷲ تعالی کے رحیم ہونیکا اقرار کر رہا ہے ۔ دنیا بھر میں ایک ایسا قانون تیار ہونا چاہیے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمان بس رہے ہیں انکا احترام اور انکے جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔ مذہب اسلام کا احترام کیا جائے اور اﷲ تعالی سے اجتماعی توبہ استغفار کی جائے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو خدا نے موقع دیا ہے اب تو انہیں چاہیے کہ وہ خدا کی عطاء کی ہوئیں صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ملک میں انصاف اسلام اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنائیں اورمجرم کا ساتھ دینے والے کو بھی مجرم جیسی سزا مقرر کریں کیونکہ عمران خان تو انصاف کا نعرہ لیکر اقتدار میں آئے اور ملک کو ریاست مدینہ کے علمبردار بن کر آئے ہیں اب یہ وعدے کہاں ہیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قوم کو اسی جرم کی سزا مل رہی ہے اور اپنے کئے وعدے پورے کر دیں ۔ اقتدار آنی جانی چیز ہے کہ شاید پھر موقع کب ملے اب اﷲ کو راضی کر لیں ۔ اﷲ ناراض ہے بارشیں رک نہیں رہیں ‘فصلیں پک چکی ہیں اور ہمارے کرتوت سامنے آ رہے ہیں ۔ زناء کو عام کر رہے ہیں سنت کو پیچھے رکھ رہے ہیں فحاشی ‘بے پردگی کو پسند کر رہے ہیں مغرب کے پیچھے پڑ ئے ہیں ۔ بھلا ہم کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں ۔خدا سے دعا گو ہیں کہ خدا تعالی ہمیں ان ہستیوں کے صدقے جن کا اس مبارک ماہ یکم شعبان المعظم سے ظہور ہے یعنی یکم شعبان المعظم کو حضرت علی کی پیاری بیٹی حضرت بی بی زینب کا ظہور مبارک ہے اور تین شعبان المعظم کو حضرت علی کے فرزند ارجمند اور جنت کے نوجوانوں کے سردار جناب حضرت امام حسین کا ظہور مبارک ہے اور چار شعبان المعظم کو جناب حضرت امام حسین کی فوج کے سپہ سالار اور ان کے بھائی جناب حضرت غازی عباس علمبردار کا ظہور مبارک ہوا ہے ۔ یہ ماہ شعبان بڑا مبارک ماہ ہے اس میں اسی طرح اس میں ہستیوں کا ظہور ہے جنہوں نے اﷲ تعالی کو راضی کر دیا ہے انکے صدقے میں اﷲ تعالی ہمیں معاف فرما کر ہم پر رحم فرمائے اور ہم پر اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دے اور اپنے پیارے محبوب کی امت پہ رحم فرما دے اور ان پاک ہستیوں کے صدقے جن سے اﷲ تعالی راضی ہو گیا ہے اﷲ تعالی ہمیں اپنے آپ میں تبدیلی لانے کی توفیق دے ۔ پاکستان میں اسلام کا نفاذ ضروری ہو چکا ہے ۔ قانون کی بالادستی ضروری ہے ۔ ابھی توبہ کر لیں جو یورپ کو اپنا آئیڈیل بنائے پھرتے ہیں انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ اب وہی لوگ کلمہ پڑھ کر اسلام میں جوق در جوق داخل ہو رہے ہیں اور قرآن کی تعلیمات سے اپنے سینے روشن کر رہے ہیںاور ہندو کافر بھی اب ہمارے پیارے آقا کا کلمہ پڑھ کر اپنے دل موم کر رہے ہیں دنیا کا سخت ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی قرآن پاک کی تلاوت سننے پر مجبور ہو چکا ہے ۔ اب غیر مسلم بھی قرآن پاک کو سینے سے لگا رہے ہیں اور تم آقا کی سنت اور اہلبیت کو چھوڑ کر غیروں کے پیچھے بھاگ رہے ہو اور اسے اپنی ترقی اور کامیابی سمجھتے ہو ۔ خدا کا خوف کرو اسلام کی دعوت کو عام کرو کامیابی کے راستہ پر آ کر ہمیشہ کیلئے کامیاب بن جائو ۔ خدا تعالی ہمارے ملک پاک کو تا قیامت سلامت آباد رکھے اس کے بسنے والوں کی خیر کرے اسکی بری ‘بحری ‘ہوائی افواج کی حفاظت فرمائے اور وطن کے مخلص حکمرانوں کی زندگی میں برکت عطاء فرمائے تاکہ وہ اپنی قوم کیلئے کچھ بہتر سے بہتر کر دکھائیں ۔ یااﷲ قبول فرما ۔ میں دعا گو ہوں کہ اﷲ تعالی ہمارے ملک و قوم کو ناگہانی آفات سے ہمیشہ کیلئے محفوظ رکھے آمین ۔ ثم آمین ۔