ٹھٹھہ۔:  ہیومن رائٹس اور نیشنل پیس کمیشن کے رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ سے عوام کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لئے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے اور ٹھٹھہ پولیس کو اپنے عوامی سلوک کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کی مشکلات کو حل کرنے اور ان کے حل کے لئے ہر ایس ایچ او کو روزانہ کی بنیاد پر 2 گھنٹے لیں۔ قومی امن کمیشن پاکستان کے مرکزی چیئرمین محمد ارسلان ، نیشنل کمیشن برائے لاء اینڈ جسٹس انٹر فیڈ اور ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس ڈاکٹر جاوید اقبال فاروق رانا بین وزارتی وفد ہے۔ اہل فکر کے ساتھ ملاقات میں صورتحال پر تفصیلی بریفنگ لی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر جاوید اقبال فاروق رانا اور محمد ارسلان نے عوامی پریس کلب کے صحافیوں کو بتایا کہ لوگوں کو بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن حکومت بہتر انفراسٹرکچر سے محروم ہے اور شہروں میں پانی اور صفائی کے نظام کا فقدان ہے۔ اس سے بہتر اور کوئ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ لوگ پریشانی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ صفائی کے نظام کو بہتر بنائے اور شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کا کردار معاشرے سے برائی کو دور کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے اس برائی کی جڑ پولیس کا ہے لہذا پولیس کو اپنا رویہ تبدیل کرنا پریگا اور عوام کا دوست بننا چاہئے ، جب تک کہ نیچے درجے کے لوگوں کو سہولیات حاصل نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹھٹھہ پولیس سمیت پورا ملک خصوصن Sindh سندھ پولیس عوام کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے اقدامات کرے اور ایس ایچ او کو عوامی مسائل پیش کریں اور روزانہ 2 گھنٹے میں ان کو حل کریں۔ اس موقع پر پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے رہنما ولید مرزا ، الطاف حسین تنیو ، عبدالحمید چند میمن ، سید مقبول شاہ شکرالہٰی بھی موجود تھے۔ قائدین نے مشہور درگاھ عبداللۃ شاھ اصحابی پر حاضری دی اور ملک کے امن وامان کی دعا مانگہی