سری نگر /  اسلام آباد:  تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر نے1947سے اب تک 35 لاکھ کشمیریوں کو مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا ہے۔پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی مظالم کی وجہ سے گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران ہزاروں کشمیریوں کو غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کو چھوڑ کرآزاد جموں وکشمیر، پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکا، کینیڈا اوردیگر ممالک میں میں پناہ لینا پڑی۔رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارت کی مسلسل ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے گزشتہ 31برسوں کے دوران 40ہزار سے زائد کشمیریوں نے ہجرت کی اور وہ مقبوضہ علاقے سے باہر مہاجرین اور پناہ گزینوں کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔دریں اثنا بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا نوجوان جمعہ کو سرینگر کے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر میں ظلم وبربریت پر اپنی خاموشی توڑے،دختران ملت کی اسیر چیئرپرسن آسیہ اندرابی کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔