ایتھوپیا میں نسلی فسادات کی نئی لہر میں 100 سے زائد لوگوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ۔ایتھوپین ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق جنوبی افریقی ملک ایتھوپیا کے مغربی علاقے بینیشینگل گوموز کے ایک گاؤں میں فائرنگ کرکے 100 سے زائد لوگوں کو قتل کردیا گیا جب کہ درجنوں افراد اس حملے میں زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد دی جارہی ہے تاہم زیادہ تر زخمیوں  کی حالت تشیوشناک بتائی جارہی ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق حملے میں زندہ بچ جانے والے متعدد کسانوں اور دیگر افراد کا کہنا ہے کہ گوموز کمیونٹی کے افراد نے ہم پر حملہ کیا اور گھروں کو آگ لگائی جب کہ بھاگنے والے تمام افراد پر فائرنگ کی گئی اور چاقوؤں سے حملے کیے گئے۔ایک مقامی کسان بیلے واجیرا کا کہنا ہے کہ صبح سویرے اچانک فائرنگ کی آوازوں سے وہ بیدار ہوئے اور فوراً گھر چھوڑ کر بھاگنا شروع کردیا، چند لوگوں نے ہمیں مارنے کے لیے ہمارا پیچھا بھی کیا جس کے نتیجے میں میری بیوی اور 5 بچوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، مجھے بھی ایک گولی لگی لیکن میں اپنے دیگر 4 بچوں سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔مقامی اسپتال کی نرس نے ’’رائٹرز‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے درجنوں زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی لیکن ہم اس حملے کے حوالے سے بالکل بھی تیار نہیں تھے اور نہ ہمارے پاس اتنی ادوایات موجود تھیں جس کی وجہ سے ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔خیال رہے یہ حملہ ایتھوپیا کے وزیراعظم آبے احمد کے علاقے میں دورے کے بعد پیش آیا جس میں انہوں نے نسلی فسادات کے خاتمے اور قومی یکجہتی پر زور دیا تھا۔