برلن: یورپی ممالک میں مشترکہ طور پر کورونا ویکسینیشن کا آغاز ہوگیا ہے جس کے لیے جرمنی میں 101 خاتون، سویڈن میں 91 سالہ، اسپین 96 سالہ اور اٹلی میں 29 سالہ نرس کو پہلی پہلی ویکسین لگائی گئی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 21 دسمبر کو فائزر- بائیو این ٹیک کی ویکسین کی منظوری کے بعد یورپی یونین کے 27 ممالک میں ویکسینیشن کے لیے اتوار کا دن مقرر کیا گیا تھا لیکن ہنگری اور سلواکیا نے ہفتے کے روز ہی سے ویکسین لگانے کی مہم شروع کردی تھی۔جرمنی میں ایک کیئر ہوم میں 101 سالہ خاتون کو ویکسین لگانے سے ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا گیا تھا، اسی طرح اسپین کی 96، سویڈن کی 91 سالہ خواتین سے کورونا ویکسینینش کا آغاز کیا گیا۔ اٹلی کی 29 سالہ خاتون نرس سمیت طبی عملے کے 3 ارکان کو ویکسین کے ٹیکے لگائے گئے۔علاوہ ازیں چیک ریپبلک میں ملک کے وزیر اعظم آندریج بابس کو کورونا وائرس کی ویکسین لگا کر ملک بھر میں ویکسینیشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ یورپی ممالک میں ویکسینیشن کا آغاز پر جوش اور انتہائی منظم ہے جس میں ترجیح عمر رسیدہ خواتین اور طبی عملے کو دی جارہی ہے۔کورونا ویکسینیشن سے جہاں اس عالمی وبا سے چھٹکارے کی امید پیدا ہوگئی ہے وہیں کورونا وائرس کی نئی قسم کا خوف بھی منہ کھولے کھڑا ہے۔ فرانس نے تیسرے ملک گیر لاک ڈاؤن کا عندیہ ہے جب کہ جاپان سمیت کئی ممالک نے عالمی پروازوں کو معطل کر رکھا ہے۔