ایک عادت سی ہو گئی

محمد اخترعلوی۔رحیم یار خان
ایک عادت سی ہو گئی ہے کہ خود اعتمادی کو لفظوں تک محدود کر دیا ہم نے اور ڈھونڈتے پھرتے ہیں کوئی تو میسر ہو جس کی غلامی کا طوق خود پر چڑھا کر نعروں کی گونج پیدا کرتے حق ادا کرنے کا ڈھنڈورا پیٹ کر محب وطن کہلانے کا ڈرامہ رچائے خود نما سرخرو کہلاتے پھریں اور کیاعجیب منطق اپنائی ہے کہ حقیقت سے آشکاری شایان شان نہیں اور غلامی کا فقدان ہو یہ برداشت نہیں اور جی حضوری حصہ زندگی میں لازمی قرار دے دیا ہے یہی وجہ ہے کہ سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ایک مخصوص طبقہ ہے جسے آقائے اعظم بنا کر پیش کرتے آرہے ہیں اور وہ ہے کہ وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا با فخر ہے اور ہم خود سے ہی بضد ہیں کہ ان کے غلام تھے ،غلام ہیں اور آنے والی نسلیں بھی جی حضوری کا دم بھرتے غلام رہیں گی ضمیر کو جگانا تو دور کی بات ہے احساس تک کو جگاناگوارا نہیں ہمیں اور لگے رہتے ہیں اس تگ و دو میں کہ آقائے اعظم کا اقبال بلند رہے چاہے خدانخواستہ ملک جس حا ل میں رہے یا نہ رہے پہلے انگریزوں کے غلام تھے اب ان کی باقیات آقاؤں کے اور آنے والا وقت کوئی بھی ہو غلامی کا تاج سر پر سجائے جی حضوری کا نعرہ بلند رہے گااور بے وقوف لگتے ہیں وہ لوگ جو برابری کی بات کرتے ہیں انہیں شاید یہ معلوم ہی نہیں کی آقاؤں کیلئے علیحدہ قانون زندگی ہے اور غلاموں کا فلسفہ زندگی الگ سے ہے ہم تو پیدا ہی جی حضوری کیلئے ہوئے ہیں نہیں نہیں آقاؤں کو ناراض کر کے ہم سے گنا ہ سرزد ہو یہ گوارہ نہیں ہمیں بس رکیئے،،،
یہ وہ حالات زندگی ہیں جو دیکھنے میں آتے ہیں ایک سوال آج ہم خود سے کریں آخر کب تلک اپنی پہچان کو زندہ درگور کیئے رکھیں گے باحیثیت مسلمان ایک نظر ماضی کے جھروکوں میں جھاکیں خلیفہ وقت ہے جو تقریباََبائیس ہزار مربع میل پر اسلامی اقتدار ذامن ہے اس کے بدن پر معمول سے ہٹ کر کچھ قیمتی لباس دیکھا گیا تو عوام نے اس کا حساب بھی ان سے مانگ لیا اور پھر وقت نے یہ محفوظ کیا کہ وہ خلیفہ وقت عوام کا جواب دہ ہوا اور اس عمل نے آنے والوں کو سبق دیا کی حکمرانِ وقت عوام کا جواب دہ ہے ۔ کیا ہم میں بھی اتنی جرائت ہے کہ آج کے حکمران سے سوال کر سکیں کے تم جو شہنشائیت کا لبادہ اوڑھ کر پھرتے ہو اس کا ہمیں حساب دو لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے بے حسی ہے کہ انتہا سے بھی آگے دھکیل کر اس پر واپسی کے دروازے بند کردیئے ہیں اور وقت کے فرعون ہیں کہ اندرونی و بیرونی سطح پر میر جعفر جیسے لوگوں کے زریعے طاق لگائے بیٹھے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے اور ہم ہیں کہ جی حضوری کا راگ الاپتے تھکتے نہیں ،،،خدارا ،،،وقت کی نزاکت کو سمجھو پیارا وطن پاکستان کا وجود قائم ہے تو ہم بھی ہیں ورنہ کچھ نہیں اپنی صفوں میں چھپے ہوئے میر جعفر کی پہچان کریں ہمیں مخصوص چہروں کی ضرورت نہیں جن کا سب کچھ اس ملک سے باہر پڑا ہے وہ ہمارے خیر خواہ کہاں ہوسکتے ہیں ہمارے خیر خواہ تو وہ ہیں جو دھرتی ماں کے محافظ ہیں اور بڑی بہادری سے ہر اٹھنے والی میلی آنکھ کو جانفشانی سے پھوڑ دیتے ہیں اور وقت پڑنے پر اپنی جانوں کی قربانی دینا باعثِ فخر سمجھتے ہیں آؤ آج یہ فیصلہ کریں کے ملک کے اصل محافظوں کے ساتھ مل کر جانثاری کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے وطن فروشوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچائیں گے انشاء اللہ۔